Posts

پاکستان...پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ

 موٹروے پہ ایسا اندوناک واقعہ یقیناً قابل مزمت ہے اتنا تکلیف دہ ہے کہ موت بھی اس سے بہتر لگے.ابھی تو محرکات کی جان پہچان ہی نہیں ہوئی تھی کہ سوشل میڈیا پہ ایک طوفان امنڈ آیا. ہر کوئی اپنا اپنا پنڈورا باکس کھول کے بیٹھ گیا. حیرت ہوئی کہ پچھلے کچھ عرصے سے خاموش میرا جسم میری مرضی والوں کو ایک بار پھر زبان لگ گئی اور عورت ذات کو ایسا مظلوم بنا کے پیش کیا گیا جانے لگا کہ یہ زمین اسکے لیے تنگ ہو گئی ہے اب اسکو اپنے حق کے لیے باہر نکلنا چاہیے مردوں کے خلاف جا کر انکو ناکوں چنے چبوانے چاہیں. دوسری طرف سیاستدانوں اپنی سیاست چمکانے کے لیے میدان میں اتر آئے.کسی کو نہ عورت سے غرض تھی نہ اس بچی سے اور نہ ہی قتل ہونے والے ہیجڑے سے. سب کو ثابت صرف یہ کرنا تھا کہ وہ ٹھیک ہے اسکو تکلیف زیادہ ہوئی ہے. تکلیف حد سے بڑھ گئی جب فیس بک اور دوسرے سوشل میڈیا چینلز پہ ریاست پاکستان کی خوب مٹی پلید کی گئی. ٹی وی چینلز پہ ایسا شور برپا ہوا کئی بیبیاں روئی پیٹی کہ ہم جہنم میں ہیں. ایسا جہنم ایسا قید خانہ جہاں انکی عزت کسی وقت بھی تار تار ہو سکتی ہے. ایسا ملک جہاں کوئی محفوظ نہیں ایسا ملک جہاں غنڈے سر عام پھر ...

گینگ ریپ

 دن دیہاڑے بیچ سڑک عورت کا گینگ ریپ.. سننے کو ایسا لگتا ہے جیسے کسی فلم کا سین ہو مگر بدقسمتی سے یہ حقیقت ہے. میں بہت دیر سوچتی رہی کہ کیا اس عورت کا لباس جسم کو برہنہ کرنے والا تھا یا اسکی ادائیں دل لبھانے والی ہونگی یا پھر ضرور وہ عورت ہی ٹھیک نہیں ہونی خود ہی پہلے لوگوں کو پیچھے لگایا جب دل بھر گیا تو چھوڑنا چاہتی ہونی تبھی تو انہوں نے بدلا لینے کے لیے ایسا کیا. مگر ان میں کوئی بات بھی درست نہیں تھی وہ تو گاڑی میں تھی دو بچے ہمراہ تھے اپنے شوہر سے بات بھی کر رہی تھی تو پھر؟ کیا وہ مرد نہیں بھیڑیے تھے جو تاک میں تھے کہ کہاں کوئی عورت ملے اور وہ اسے اپنی ہوس کا نشانہ بنائیں؟ شاید ایسا ہی ہوگا وہ ایسے اوباش نوجوان ہونگے جنکی رگوں میں باپ کا حرام مال ابل رہا ہو گا یا پھر ایسے جنکی محبوبائیں انکو چھوڑ امیر ذادوں کے پہلو میں جا بیٹھی ہونگی یا یوں بھی ہو سکتا کہ پڑھے لکھے ہوں روزگار نہ ہو معاشرتی دباؤ اور ذمہ داریوں کے بوجھ سے ڈپریشن کا شکار ہو گئے ہوں اور اپنی فرسٹریشن نکالنے کے لیے جنسی تعلق سے بہتر کوئی ذریعہ نا پایا ہو. یا پھر یہ بھی عین ممکن ہے دوستوں نے گاڑی میں سوشل میڈیا پہ کچھ...

اصل تبدیلی

 ہمارے نظامِ تعلیم سے اختلاف تو مجھے ہمیشہ سے رہا ہے. خاص کر مطالعہ پاکستان کے نام پہ مختلف مضامین کا ملغوبہ ایک عجیب مزاق ہے. مگر اس سے بھی زیادہ تکلیف  یونیورسٹیز میں خالص سائنسز میں مارکسزم کے ملانے پہ ہوئی. نہ ہماری تعلیم اپنی, نہ رہن سہن اور نہ ہی سوچ. پچھلے تہتر سالوں کا اگر جائزہ لیں تو ہمارے پاس چند ایک اچھے ڈاکٹرز اور گنتی کے سائنس دان آئے ہیں. ہاں کن ٹُٹے دانشوروں کی کوئی کمی نہیں مگر اصل دانشور آٹے میں نمک کے برابرہیں.  آئی آر, سوشیالوجی, پبلک ایڈمنسٹریشن, لاء, اور دیگر سوشل سائنس سبجیکٹس قیام پاکستان سے پہلے کے پڑھائے جا رہے ہیں. مگر پالیسیز, تھیوریز میں ہمارا نام کہیں نہیں ہے ہم آج بھی مجبور ہیں کارل مارکس, ایڈم سمتھ, مارشل, ڈرخائم اور سپنسر وغیرہ پڑھنے کو. کیوں؟ پڑھنے میں برائی نہیں ہے مگر اس میں ہماری شراکت کہاں ہے؟ اتنے سالوں میں جو پڑھائے گئے وہ نہ ایجوکیشنسٹ بنے, نہ سکالر نا مفکر, نہ اچھے ڈاکٹر, نہ انجینئیر اور نہ ہی سائنسدان تو پھر کیا بنے؟ قانون وہی جو انگریزوں نے بنایا. تھیوریز وہی جو گورے دے گئے تو ہمارے تعلیمی ادارے اور وزارتیں کیا جھک مارنے کو بنائ...

طلاق

 آج کل ایک سوال جو تواتر سے سننے اور دیکھنے میں آرہا ہے وہ پڑھی لکھی خاص کر برسر رازگار خواتین میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کے متعلق ہے. کچھ دوستوں کا ماننا ہے کہ پڑھی لکھی عورت باشعور ہوتی ہے لہذا خود کے ساتھ ظلم یا کسی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کرتی اور اپنے حق کا استعمال کرتے ہوئے علیحدگی کو ترجیح دیتی ہے.سننے میں یہ بات دل کو لگتی ہے اور سمجھ بھی آتی ہے. مگر کیا ہمیشہ ایسا ہوتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں. ہم لوگ بعض اوقات اپنے مقصد کے لیے شعور کے معنی و مفہوم کو ہی بدل دیتے ہیں. شعور جہاں اپنے حقوق سے روشناس کرواتا ہے وہیں فرائض کا بگل بھی بجاتا ہے جسے ہم در خور اعتنا نہیں سمجھتے. شادی سے پہلے ہی علیحدہ گھر کو تصور, ساس سسر نندوں دیور جیٹھ کے جھنجھٹ سے آزادی کے خواب آنکھوں میں سجنے لگتے ہیں. فلموں ڈراموں اور ناولوں جیسی رومانوی زندگی کی سوچ اکثر باقی گھر والوں کو اپنی رازداری (privacy) میں بڑی رکاوٹ ماننے لگتی ہے. شادی کے بعد اب جب یہ خواب چکنا چور ہوتے ہیں تو لہجوں کی شرینی کہیں تیل لینے چلی جاتی ہے. وہ بیبیاں جو میں دہی جمائے رکھتی تھی سوئے سے برف توڑنے لگتی ہیں. تعلیم ہونے کے باوجود ت...

بچپن کا اگست

یہ بات ابھی چند سال پرانی ہے مگر ایسا لگتا ہے جیسے صدیاں بیت گئی ہوں. اگست کا مہینہ شروع ہوتے ہی کمر کس لی جاتی تھی گھر کے سارے بچے اپنی جیب خرچی جوڑنا شروع کر دیتے تھے تاکہ چودہ اگست کو سب سے زیادہ جھنڈیاں انکے گھر لگی ہوں. اور دلہن کی طرح سجا گھر ہر ایک کی توجہ کا مرکز بنا رہے. مقابلہ سخت اور وقت کم ہوتا تھا. تیرہ اگست کی شام جھنڈا جھنڈیاں گوند اور لیوی جو خود پکائی جاتی یا بنوائی جاتی کسی جنگی سازوسامان کی طرح مورچوں تک پہنچا دی جاتی تھی. سارے بہن بھائی کزنز شام ہوتے ہی گھروں کی چھتوں پہ ڈیک اور بیفلیں لگانا شروع کر دیتے تھے. اور ساری رات ان پہ چلنے والے ملی نغمے خون کو گرماتے اور بچے بڑے سب بڑی جانفشانی سے گھر اور گلی سجانے میں مصروف رہتے تھے. ایک عجیب سی کیفیت ہوتی تھی سب جانتے تھے کہ صبح بارش ہوگی انکی ساری محنت پہ پانی پھر جائے گا مگر ایک جنون تھا جو کسی طور کم نہ ہوتا تھا. صبح کی ہلکی اور تیز بارش میں گرنے والی جھنڈیوں کو نہ صرف اٹھایا جاتا بلکہ انہیں چوم کے آنکھوں سے لگانا بھی محبت کا ایک اہم جز تصور کیا جاتا تھا. اس جوش کی وجہ شاید وہ داستانیں تھیں جو دادی, دادا, نانی اور نان...

محرومیوں کی چادر

محرومیوں کی چادر بڑی وسیع ہوتی ہے ساری نعمتوں ساری رحمتوں پہ چھا جاتی ہے مگر پھر بھی اسکا خالی پن نہیں بھرتا. انسان بڑا کم ظرف ہے وہ اس چادر کی بکل مارے لاحاصل کے پیچھے بھاگتا حاصل کو پاوں میں روند ڈالتا ہے. لاحاصل کی تمنا گلستاں کو صحرا میں بدل ڈالتی ہے ایک ایک پھول نوکیلی جھاڑیوں جیسے چبھتا ہے جسکا ایک ہی کانٹا دامن لیرولیر کر دے. پتہ نہیں یہ اسکی کم علمی ہے یا کم ظرفی. مگر میرا اللہ بڑا رحمان و رحیم ہے وہ خاموشی سے اپنا کام جاری رکھتا ہے دینے سے ہاتھ نہیں کھینچتا وہ چادر کی تہوں میں بھی ترسیل جاری رکھتا ہے. بس دور کر دیتا ہے خود سے اپنے رستے سے اور توفیق چھین لیتا ہے شکر کی اور چھایہ دور کر دیتا ہے صبر کی.یہی تباہی ہے انکے لیے جو انگلی کے ناخن کے زخم کو پورے جسم پہ مسلط کر لیتے ہیں. مگر ندامت کا ایک آنسو, اذیت کی گھڑیوں میں پکارا گیا اللہ کا نام رشتہ بحال کر سکتا ہےملعون کو ممنون بنا سکتا ہے. اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں بس خواہشات و ضروریات کی کشتی کو اسکی رضا کی لہروں کے سپرد کردیں پھر دیکھیں کہ منزل کیسے قدم چومتی ہے.  جمعہ مبارک مصباح چوہدری

بے ارادہ

پتہ ہے ہم ٹوٹ جاتے ہیں اندر ہی اندر ذات کئی ٹکڑوں میں بٹ جاتی ہے نیندوں سے خواب اور راتوں سے نیندیں ہجرت کر جاتی ہیں. مگر دنیا چلتی رہتی ہے. نہ کوئی مرتا ہے اور نہ کسی کو احساس ہوتا ہے. لوگ بس اپنی وقتی ضرورت کی تکمیل کے لیے محبت کا لبادہ اوڑھ کر ہمارے اعصاب پہ سوار ہونے کی کوشش کرتے ہیں.   مگر افسوس کے حواس خمسہ پہ چھانے والے,  محبتوں میں لبھانے والے  دل کے آنگن میں گھر بنانے والے یوں دبے پاوں چلے جاتے ہیں کہ جیسے کبھی ہم انکی قیام گاہ ہی نہ رہے ہوں. ایسے لوگوں کو کیا خبر کہ کچی محبتوں کے پکے دکھ. بھنوروں کا بھیس بدل کر گلشن کے ہر پھول کو نوچتے ہیں,  بے خودی میں اہل دل سب بے سروپا ہی سوچتے ہیں. مگر انکو کیا خبر کہ ..خوشی کے موسم سے دامن چھڑا کے چاہتوں کو بے کتبہ دفنا کہ اداسیوں کے اسیر ہم وفا کے وسیع پانیوں میں اپنے کیے کو نتارتے ہیں محبتوں کو نکھارتے ہیں اذیتوں کو پکارتے ہیں کہ اپنے دل میں کسی بت کو بے ارادہ سنوارتے ہیں.  مصباح چوہدری

بلی کا ریپ

بلی کے بچے کا ریپ کوئی نئی بات نہیں ہے. بدقسمتی سے اشرف المخلوقات کے ٹیگ کے ساتھ پیدا ہونے والا انسان جب مقرر کردہ راستوں کی حدود سے تجاوز کرتا ہے تو ابلیس بھی مارے شرم "لاحول ولا قوۃ الا باللہ" پڑھنے پہ مجبور ہو جاتا ہے. بلی بکری بھیڑ بھینس کونسا جانور ہے جس سے انسان نے نفسانی خواہش کی تسکین نہ کی ہو. بکریوں کے ریوڑ میں موجود کئی بکریاں حوس کی بھینٹ چڑھتی ہیں مگر کوئی پوچھنے والا نہیں. افسوس کہ کتے جیسے جانور کو نہیں بخشا جاتا. مسلمانیت تو دور کی بات ہے کیا ہم انسانیت کے کسی درجے میں بھی آتے ہیں؟ عورت مرد بچے جانور کونسی مخلوق ہے جہاں تخم انسان بونے کی کوشش نہیں کی گئی؟ کبھی سوچا ہے قومیں ترقی کب کرتی ہیں؟ قومیں ترقی تب کرتی ہیں جب جسم کی خواہش انکی ترجیحات سے نکل جاتی صرف مقصد کی پاسداری سامنے ہوتی ہے. اب وہ مقصد کائنات کے رازوں سے پردہ اٹھانا بھی ہوسکتا ہے اور آسمانوں پہ کمند ڈالنا بھی. مگر ہمارے ہاں اول و آخر مقصد جسم کا حصول ہے. ایک کے بعد ایک جسم, کمزور طاقتور کٹیلہ نشیلا لچیلا ہر طرح کا جسم. کبھی فرصت ملے تو سوچیں کہ کیا فرق ہے ہم میں اور ان جانوروں میں جو گلی محلوں می...

دلخراش

پچھلے دنوں کی تیز دھوپ اور بارشوں نے جہاں انتظامیہ کی کارکردگی کی کلئی کھولی وہیں انکی مفلوج دماغی حالت کا اظہار بھی سر عام کیا. کسی ڈپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر کے ساتھ چمچوں کڑچھوں کا ہونا ایک بہت عام سی بات ہے مگر انکے ساتھ کسی سرکاری ادارے کے آفیشل کا یوں چھتری پکڑے چلنا سبکو اچھنبے میں ڈال دیتا ہے. دونوں فریقین میں گریڈز کا فرق ضرور ہوتا ہے مگر دونوں چونکہ سرکاری ملازم ہیں لہذا کسی پولیس والے کو شایاں نہیں کہ کسی اے سی یا ڈی سی کے ساتھ بارش یا چلچلاتی دھوپ میں چھتری پکڑ کے چلے. اور نہ ہی کسی بیوروکریٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی سرکاری ملازم کے ساتھ ایساتوہین آمیز سلوک روا رکھیں.یہ بات نہ صرف اس افسرِ شاہی کے اخلاقیات سے خالی عملوں کی نشاندہی کرتی ہے بلکہ یہ اسکی سوچ کی غلامی کا اظہار بھی کرتی ہے. انگریز چونکہ برصغیر کے لوگوں کوکمتر سمجھتے تھے اس لیے انکے ساتھ غلامانہ سلوک کیا جاتا تھا مگر دونوں ممالک کی آذادی کے بعد تو موقف اصولی طور پہ بدل جانا چاہیے تھا کیونکہ نوکر شاہی کا کام لوگوں کی خدمت کرنا ہے ناکہ انکو حقیر جاننا. جو لوگ اپنا چھاتا خود نہیں سنبھال سکتے وہ ملکی باگ دوڑ کیسے س...

ان چاہی اولاد

ان چاہی اولاد کہتے ہیں کہ بچے بہت شرارتی ہوتے ہیں. تو کیوں نہ ہوں بھئی ماں باپ کی شرارتوں کا نتیجہ ہیں تو شرارت تو انکے جینز میں ہوئی. مگر والدین کی یہ شرارت ضروری نہیں بچے پیدا کرنے کی نیت سے ہو. کئی بار یہ صرف تسکین نفس کے لیے ہوتی ہے جسکے نتیجے میں ان چاہی اولاد کا وجود چاہتوں بھری زندگیوں میں شامل ہوجاتاہے. مگر افسوس یہ چاہتیں بچوں کے لیے راحتیں نہیں بن پاتیں. مرد کو لگتا ہے کہ بچہ آنے سے اسکی اہمیت کم ہوگئی ہے عورت اسکی بجائے بچے کو وقت دینے لگی ہے جو سراسر غلط ہے. ایسے میں لوگ اپنے ہی بچے کو رقیب ماننے لگتے ہیں. مرد کی جسم کی تسکین کی خواہش اور عورت کا کہنا کہ دن رات آپ کے بچے کو سنبھالوں یا آپکا بستر گرم رکھوں میں بھی انسان ہوں نہیں کر سکتی. ایسے میں اندھی خواہشیں سر پہ چڑھ کے ناچنے لگتی ہیں. جسم کی شدید طلب گھروں میں اکثر لڑائی کا بازار گرم رکھتی ہے. اور بچے بیچارے سہمے بس دیکھتے رہ جاتے ہیں. انکا معصوم زہن بس سوچتا رہتا ہے ان گالیوں کا ان لڑائیوں کا جو انکی زندگی سے سکون چھین چکی ہوتی ہیں کیا انجام ہو گا. سارا دن لڑائی میں گزارنے کا بعد اگلی صبح جب ماں اور باپ دونوں ہنسی مزا...

کہی ان کہی

ہمارے ہاں جوانی کی دہلیز پہ قدم دھرتے ہی جہاں ایک طرف جذبات کی ریل پیل ہوتی وہیں ضروریات کی ایک لمبی فہرست. سترہ سے بیس سال کی عمر عموماً خواب بننے کی ہوتی ہے جہاں لڑکیاں کسی ہیرو کی بانہوں میں بانہیں ڈالے برستے بادلوں تلے ہوا کے سنگ لہراتے آنچل کو آذاد چھوڑے محبت کے گیت گانا چاہتی ہیں اور لڑکے آغوش محبوب میں سہانے مستقبل کے خواب سجانا چاہتے ہیں مگر حالات کی ستم ظریفی کہ ہمارے ہاں ناں ہی ان گیتوں کی کوئی وقعت ہے اور ناں ہی ان خوابوں کی. مادیت پرستی کے مارے لوگ محبت کی بجائے آسائشات کو ترجیح دیتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ رشتہ جوڑتے وقت پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ لڑکا کرتا کیا ہے کماتا کتنا ہے گھر بار کیسا ہے؟ لڑکی کتنا پڑھی نوکری کرتی کے نہیں باپ بھائی کیا کرتے ہیں؟ مگر پوچھنے والے نہیں جانتے کہ یہاں بس جھولیاں محبتوں کے پھولوں سے بھری ہیں آنکھوں میں ان گنت خوابوں کی خماری ہے اور دل میں کئی جذباتوں کی ہلچل. افسوس کہ اس دین کے پیروکار جسکا خدا اپنے رازق ہونے کا دعوی کرتا ہے اور جسکی تعلیمات میں ہے کہ رزق عورت کے مقدر سے ملتا ہے ان ساری باتوں کو در خور اعتنا سمجھتے ہیں. کوئی نہیں سمجھتا کہ وقت کے...

مادیت پرستی

مادیت پرستی گھن کی طرح احساس,خلوص اور خون کے رشتوں کو کھا رہی ہے. اب تو لگتا ہے کہ رشتوں کو سنبھالنے کے لیے انہیں جوڑنے اور انکی اصل حیثیت میں رکھنے کے لیے صاحبِ حیثیت ہونا ضروری ہے. کتنا عجیب دور ہے ناں انسان کی اہمیت اسکے انسان ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اسکی مالی حالت کی وجہ سے ہے😒 مگر اگر رشتے نہ رہیں تو انسان کب تک دولت کے ڈھیر پہ بیٹھ کے سکون کی نیند کا انتظار کرے گا؟ اپنوں سے انکی غربت کی وجہ سے منہ موڑنے والے ٹھکرائے جانے کی اذیت سے نہیں گزرتے اسی لیے انہیں احساس تک نہیں ہوتا کہ پیچھے رہ جانے والے کی روح گردشِ دوراں میں کہیں کھو سی جاتی ہے اور اسکے پاس فقط خالی گوشت پوست کا بنا جسم رہ جاتا ہےجسکو افلاس کی چادر میں لپیٹ کے قبر میں ہمیشہ کی نیند سونے تک انتظار کرنا ہوتا ہے. مصباح چوہدری

کوڑے دان

کبھی کبھی دل چاہتا ہے ہر گھر میں ایک ایسا کوڑا دان ہو جس میں کوڑِے کرکٹ کی جگہ نفرتوں کو پھینکا جا سکے اور کوئی صفائی والا ہمیشہ کے لیے انہیں ہماری زندگیوں سے دور لے جائے ہمارے گھر اور دل اس غلاظت سے پاک ہو جائیں. پھر رشتوں کے بیچ کدورتیں نہ ہوں, مفادات نہ ہوں بس محبتیں ہوں. دلوں کو جوڑتی محبتیں, ہاتھ تھام کے چلتی محبتیں, غلطیاں درگزر کرتی محبتیں اور بدگمانیوں کے بھنور سے نکالتی چاہتیں. پھر شاید انائیں رشتوں سے بڑی نہ ہوں, پھر شاید رشتوں کی قبر پہ کسی کو ماتم نہ کرنا پڑے.اگر ایسا ہو جائے تو کوئی کسی کے جانے پہ ندامت کے آنسو نہ بہائے گا بلکہ محبت سے دوری کا درد محسوس کرے گا. نفرتیں زندگیوں سے منہا ہو جائیں تو خوشیوں کو جگہ مل سکتی ہے. بس گھر میں ایسی ڈسٹ بن کی ضرورت ہے....کاش کے مل جائے ایسا کوڑا دان.. اور ہو جائے سبکی زندگی آسان.. مصباح چوہدری

ٹھکرائے جانے کا عذاب

ٹھکرائے جانے کا عذاب بڑا جان لیوا ہوتا ہے, کتنے آنسو آنکھوں میں خشک ہوجاتے ہیں, کتنی سسکیاں حلق میں ہی کہیں دم توڑ جاتی ہیں,اندر ہی اندر انسان ختم ہوتا جاتا ہے. اس بھاری بوجھ تلے دب کے سارے ارمان, سارے احساس سارے جذبات دم توڑنے لگتے ہیں. ناامیدی کے اندھیرے ہر سو گہرے ہوتے جاتے ہیں. انسان اس بھار کو اٹھائے کبھی امید کے راستے تک پہنچ ہی نہیں پاتا ہر گزرتا لمحہ بدگمانی و مایوسی کی دلدل میں اتارتا جاتا ہے. پہلے پہل آئینے کے سامنے موجود چہرے پہ ترس آنے لگتا ہے اور پھر نفرت ہونے لگتی ہے. منہ چڑاتا آئینہ دشمن جاں بن جاتا ہے. تب دعائیں, بد دعائیں بے معنی ہو جاتی ہیں. لوگوں کی باتیں تیر بن کے چبھتی ہیں, انکی محبتیں ہمدردیاں لگنے لگتی ہیں اور ہمدریاں صرف انکے ترس کھانے کا اظہار, دوسروں کی کامیابیوں سے انکی خوشیوں سے جلن ہونے لگتی ہیں اور تقدیر کے سامنے پھوٹتی تدبیریں انسان اور خدا کے بیچ دیوار بن کے حائل ہو جاتی ہیں. تب سجدوں سے لذت چھن جاتی ہے, دل میں یقین کی قبر بن جاتی ہے. بہت سے ارمان بن پانی کی مچھلیوں کی طرح تڑپتے رہتے ہیں اور انسان بے بسی کی اوٹ سے چپ چاپ پتھر بنا دیکھتا رہ جاتا ہے. ایسے...

محبت وحبت

کبھی کبھی لگتا ہے کہ محبتوں کے رشتے محض لفظوں کے دھاگوں سے بندھے ہوتے ہیں. جبھی تو ہر وقت باتیں ہوتی ہیں صبح شام سوتے جاگتے ہر وقت لفظوں کے گجروں سے محبوب کے دل میں گھر کیا جاتا ہے. اور ہر نئی مالا سے رشتے کو مضبوط کرنے کی تگ و دو. مگر کب تک؟ الفاظ آخر الفاظ ہیں بڑی غیرت ہوتی ہے ان میں. بہت زیادہ استعمال ہو جائیں تو تاثیر نہیں رہتی. اور عاشقوں کو تو اپنی دھڑکنیں بھی معنی و مفہوم کے دھاگوں میں پرو کے الفاظ میں سنانا پڑتی ہیں. اسی لیے ایک وقت ایسا بھی آتا ہے جب الفاظ ہاتھ کھینچ لیتے ہیں کسی کے نام کی تسبیح نہیں بنتے. شاید ایسے ہی کسی موقعے کی مناسبت سے منٹو نے کہا تھا کہ مرد کے پاس جب الفاظ ختم ہو جاتے ہیں تو وہ چومنا شروع کر دیتا ہے. اور ایسا کرنا شاید مجبوری ہے محبوب کی توجہ اور اسکا لگاؤ قائم رکھنے کے لیے عاشق ایساسہارا لیتے ہیں. تبھی تو ان کے ان باکس میں "ummmahhh" muuuaah"😘  جیسی چیزیں لفظوں کی نسبت زیادہ ملتیں ہیں.یہ عمل یہیں نہیں رکتا.ہر لحظہ اس میں جدت آتی ہے. بہت ساری چیزیں شامل ہوتی ہیں. اور اس طرح محبت کا یہ پودا پروان چڑتا ہے. شاید یہ سب اسکی غذا ہے. ایسی غذا...

بارش

بارش کی بوندیں بھی عجیب ہوتی ہیں. بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کر دیتی ہیں. کسی کے لطف اندوز ہونے کا سامان مہیا کرتی تو کسی کو سر ڈھانپنے کی فکر سے دوچار. بڑی بوندیں شاید بڑے دکھوں جیسی ہیں جو ایک ہی جھٹکے میں بہت کچھ بہا کے لے جاتیں. اور باریک بوندیں روز مرہ کے دکھوں جیسی چھوٹی چھوٹی محرومیوں جیسی جن سے لاکھ چاہے پیچھا نہیں چھڑایا جا سکتا.جیسے چھوٹی بوندیں زمین سے سر ٹکرانے پہ اپنا رستہ نہیں بدلتی بلکہ اس میں جذب ہو جاتی ہیں.یہ دکھ یہ محرومیاں بھی ہمارے اندر رفتہ رفتہ مگر مسلسل اپنا زہر اتارتے رہتے ہیں. انسان کتنا بے بس ہو جاتا ہے. کسی کوڑھی کے زخموں کی طرح جگہ جگہ سے رستے دکھ ہر سانس اذیت سے بھر دیتے ہیں شاید انکا کوئی مداوہ بھی نہیں ہوتا. یہ بوجھ سبکا اپنا اپنا ہے. آنکھوں میں بھلے آنسو ہوں دل میں آہیں مگر جینا تو انکے ساتھ ہی پڑتا ہے. مصباح چوہدری

رشتے دار

معذرت کے ساتھ بہت سی باتیں وقت کے ساتھ ساتھ سمجھ آتی ہیں مگر ان کے سمجھ آنے تک ہم اپنی سوچ کے زہر سے کئی زندگیوں کو ڈس چکے ہوتے ہیں. جیسا کہ "بہن برا مت ماننا تمھاری جوان بیٹی ہے اور تم نے گھر میں کیبل لگوا رکھی ہے. اللہ معاف کرے نری خرافات ہے یہ" پھر توبہ توبہ فلاں کی بیٹی نے اتنا میک اپ کیا ہوا تھا. پتہ نہیں کس کو دکھانا ہے ہم تو اللہ میاں کی گائے تھے لپ سٹک بھی زندگی میں پہلی بار اپنی شادی پہ لگائی اور تو اور کپڑوں پہ تزکرے کہ ہائے ہائے "کی ستھنیاں جیاں پایاں ہویاں ساریا لتاں نظر آندیاں, لنڈیاں پچیاں قمیضاں, گلے ویکھو تے قمیض دی فٹنگ قہر خدا کا انگ انگ نظر آتا ہے" ہائے تم نے باجی کے بیٹے کو دیکھا ہے کانوں میں ٹوٹیاں لگائے ہر وقت موبائل پہ لگا رہتا. بہن بھی موبائل نہیں چھوڑتی اور ناخن دیکھ اتنے بڑے, حرام کھاتے ہیں سارے. کہہ دو تو دشمن سمجھتے ہیں ہمیں کیا جب قبر میں سانپ اور بچھو آئے تب پتہ چلے گا. یہ اور اس طرح کی ہزار باتیں پھوپھیاں ماسیاں چاچیاں کرتی رہتی ہیں. مگر جب انکی اولادیں جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھیں تو میک اپ سے اٹے چہرے, فیٹنگ والے کپڑے لمبے ناخن, موب...

ہیجڑے

کھسرا, ہیجڑا, جناناں, خواجہ سرا یا کراس جینڈر ایسے الفاظ ہیں جو ہمیشہ تحقیر یا ہتک کے اظہار کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں. کتنا عجیب ہے ناں کسی انسان کو اسکے حصے کی عزت صرف اس وجہ سے نہ دینا کہ وہ مرد یا عورت کے جسمانی معیار پہ پورا نہیں اترتا. میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ کیسے لوگ ہیں یہ جنکو انکا پیدا کرنے والا بھی نہیں جانتا. قرآن میں اسکا مخاطب بس مرد اور عورت رہے ہیں جبکہ یہ تیسری ان دونوں کے بیچ کی چیز کبھی اسکی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی. مگر پھر میری نظر سے ایک امریکی ریسرچر Harry Klinefelter کی 1942 میں کی گئی تحریر گزری. جس میں ایک بیماری Klinefelter Syndromeکے بارے بات کی گئی تھی جسکے مطابق ہیجڑا کوئی تیسری صنف نہیں بلکہ مرد یا عورت کی ایک جسمانی بیماری ہے. جسکے مطابق X اور Y کروموسومز کی تعداد کی عدم مطابقت کی وجہ سے بچے کی جنس کا تعین نہیں ہو پاتا اور بچہ ابنارمل پیدا ہوتا ہے اس تحریر کے بعد ایسے بچوں کے لیے دل میں ایک نرم گوشہ پیدا ہو گیا. مگر یہ کیا کہ آجکل کھسرا بننے کے لیے اس بیماری کا شکار نہیں ہونا پڑتا. بلکہ سائنس کی مدد سے کوئی بھی مرد ہیجڑا بن سکتا ہے یا کوئی...

بیٹیاں

میں سوچ رہی تھی ہم جتنے بھی تعلیم یافتہ اور آذاد خیال ہو جائیں بیٹیوں کو مساویانہ حقوق دینے کہ ہمارے دعوے ہمیشہ کھوکھلے ہی رہیں گے.ہم فرط جذبات میں ان سے یہ کہہ دیتے کہ بیٹا تم آذاد ہو اپنے ہر فیصلے میں جتنا مرضی پڑھو اور اگر کوئی پسند ہو تو ہمیں بتانا.تمھاری خوشی میں ہماری خوشی ہے.مگر یہ سب جذباتی باتیں ہیں.سچ تو یہ ہے کہ بیٹیوں کے حوالے سے آیا ہوا رشتہ ہمیشہ مشکوک ہوتا ہے اس انسان کی اچھائی کا دعوی بھلے ساری خدائی کرے مگر یہ معلومات معیاری نہیں ہوتیں اسکے برعکس بیٹے یا رشتے والی کے توسط سے آنے والا رشتہ قابل بھروسہ ہوتا ہے کم از کم اتنا کہ اسکو دیکھا جا سکے. اور ان کے ذریعے حاصل ہوتے والی معلومات مستند ہوتی ہیں. کیا بیٹیاں سچ میں برابر ہوتی ہیں؟ اگر انکی رائے اتنی غیر اہم ہے تو آذادی کا پٹہ ڈال کر انہیں گھسیٹنے کی کیا ضرورت ہے؟ انکے حقوق صلب کرنے ہیں تو شعور کی بیداری کی ضرورت کیوں ہے؟ پتہ ہے جب جان جاتی ہیں نا اپنا مقام تو زیادہ ٹوٹتی ہیں اور اسطرح بکھرتی ہیں کہ کبھی جڑ نہیں پاتیں. یوں بے اعتباری ہو جاتیں ہیں کہ پھر کوئی قابل اعتبار نہیں رہتا. اتنی کمزور ہو جاتیں کہ پھر کوئی فیصلہ ...

کیسی محبت ہے؟؟؟

میں آج تک نہیں سمجھ پائی محبت کیا ہے؟ کسی کا اچھا لگنا. کسی سے باتیں کرنا. کسی کی پرواہ کرنا. کسی کو خود سے زیادہ چاہنا؟ کسی کو پا لینا یا کسی کو کھو دینا. بہت سارے لوگوں سے سنا کہ محبت روح سے ہوتی ہے. مگر روح سے محبت کے چکر میں جسم کا دروازہ کھولتے ہوئے بچوں کی جو لائن برآمد ہوتی ہے اسکو کہا کہیں گے؟ محبت کا تعلق اگر صرف روح سے ہے تو پانے کی خواہش اور کھونے کا ڈر کیسا؟ محبتوں کا دم بھرنے والے اکثر یہ کہتے پائے جاتے ہیں تم سے کیسا پردہ میرے جسم, میری جان پہ مجھ سے زیادہ حق تمھارا ہے. اسکا مطلب ہے محبوب ایک دوسرے کے سامنے برہنہ ہیں کوئی پردہ نہیں اگر ایسا ہے تو روح کہاں ہے اس میں؟کبھی سوچا ہے اگر اللہ کو محبت ایسے ہی رکھنا ہوتی ننگی دھڑنگی غلاظت زدہ تو میاں بیوی کا رشتہ کیوں بناتا؟ کبھی سوچا ہے محبت کرنے والے ہمیشہ پل صراط پہ چلتے ہیں گناہ اور ثواب کی بیچ کی پل صراط, نیکی اور بدی کی پل صراط, جائز اور ناجائز کی پل صراط. اتنے پل صراطوں کو پار کرنے کے لیے موبائل کے سگنلز کا چھوٹا سا سہارا, جھوٹے سچے وعدوں کی کمزور ڈور اور نمبر بلاک کرنے سے پہلے کی ہلکی سی امید ہوتی ہے. ان کو نکال دیا جائ...