Posts

مثبت سوچ بہترین تبدیلی ہے

ہمارے ہاں اکثر بدعنوانی, اقربا پروری, غنڈہ گردی, جہالت اور گمراہی کا رونا رویا جاتا ہے اداروں کے خلاف باتیں کی جاتیں ہیں. نوکرِ شاہی کو القابات سے نوازا جاتاہے. مگر کبھی غور کیا ہے.کہ بیوروکریٹ پیدائشی افسر شاہی نہیں ہیں, پولیس والا پیدائشی کرپٹ نہیں. سیاستدان بچپن سے مفاد پرست نہیں اور فوجی افسران اوائل عمری سے حکم چلانے والے نہیں ہوتے ہیں. اگر محکمے کے لوگوں میں خرابیاں ہیں جناب تو محکمے کا قصور نہیں آپکی تربیت کا دوش ہے. باپ ملازم ماں ملازم اور بچے آیا کے سپرد. سکول جاو, نمبر اچھے آنے چاہیں, تمھیں سب سے خوبصورت دکھنا ہے, تم نے یہ کر کے دکھانا ہے. تمھارے مقاصد یہ ہیں. بلا بلا بلا.  جناب آپ نے اسکی تربیت کسی دوڑ کے لیے کی ہے. مالیاتی رتبے کی دوڑ, دوسروں کو نیچا دکھانے کی دوڑ اور تمام تمغات اپنے نام کرنے کی دوڑ. اصل میں آپ نے اسکو انسان نہیں بنایا گھوڑا بنایا ہے. اور گھوڑا سر پٹ بھاگتا ہے کسی احساس کے بغیر. پھر کرسی پہ بیٹھتے ہی کرسی میں کونسی جادوئی طاقتیں ہیں جو اسکو انسان بنا دیں گی؟ ماں باپ نے کم وبیش 25 سال میں جانور بنا دیا اور پھر رہتی کسر شریکِ حیات نامی سدھارنے والے نے نا...

تیری رضا چاہیے

اے اللہ میں تھک گئی ہوں اب مجھ سے نہیں ہوتا. کیا ایسا ممکن نہیں کہ میرے سجدے ہر ڈر ہر ضرورت سے ماوری ہوں؟ میری غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی کہ پیشانی میں اسم عظیم کندہ کیےکسی ضرورت کے تحت خود کو سجدہ ریز کر لوں. توں اپنی جنت اپنے پاس رکھ لے اپنا جہنم بھی سمیٹے رکھ. کہ جنت کی رونقیں اب میری توجہ اپنی طرف مبذول نہیں کر پاتیں. اب جہنم کی آگ کا خوف مجھے عبادت کی طرف گامزن نہیں کرتا. کہ اب مجھ سے تجارت نہیں ہوتی مجھے سود میں ملے تیرے باغات جنت نہیں چاہیں. کیا یہ ممکن نہیں کہ میں اپنی پیشانی بس اس لیے تیری بارگاہ میں رکھوں کہ توں میرا مالک ہے. میرے سجدے بس تجھے شایاں ہیں میرا سر اور اس میں رکھی تیری صفات بس اس لیے تیرے سامنے ہیں کہ دیکھ میرے پاس تیری ننانوے صفات کی امانت ہے اور میں نے شرک نہیں کیا اس امانت میں خیانت نہیں کی. میں نے کسی ضرورت, کسی ڈر, کسی لالچ یا کسی حرص کے پیش نظر کبھی پیشانی نہیں جھکائی. میرا رشتہ تجھ سے تیرے خلیفہ کا ہے. میرے مالک میں جانتی ہوں کہ توں مان رکھنے والا ہے میری باتوں کا مان رکھ لے.میری چاہتیں اپنے نام کر لے. میری اذیتوں کا اختتام کر. کہ مجھ سے اب بت تخلیق نہیں ہو...

لفظوں کے بھی دل ہوتے ہیں

لفظوں کے بھی دل ہوتے ہیں فقروں میں بھی انا ہوتی ہے. تبھی تو جب یہ وحی کی صورت ذہن کے دریچوں میں اترتے ہیں تبھی انکو احساس میں پرو کر زینتِ ورق نہ کیا جائے تو یہ روٹھ جاتے ہیں.اور ایک بار اگر یہ منہ موڑ لیں تو پھر بار بار بلانے پر بھی نہیں آتے. مصباح چوہدری

سب بکتا ہے

سب بکتا ہے. کبھی کبھی لگتا ہے یہ دنیا جس میں انسان اشرف المخلوقات کے منسب پہ فائز بیٹھا ہے رہنے کی جگہ نہیں ہے بلکہ ایک وسیع و عریض منڈی ہے جہاں علم, مذہب, احساس, طریقت, عقیدت, محبت, نفرت, کرادار, اقتدار, انسان یہاں تک کے وجدان بھی بکتا ہے. جس طرف نظر دوڑاو کسی نہ کسی شے کی بولی لگی ہوتی ہے. بزرگان دین کے مزارات پہ جاو تو لواحقین مزار میں لیٹے بابا جی کا نام بیچ بیچ اپنا گھر و پیٹ کا دوزخ بھر رہے ہوتے ہیں. اور قبر میں لیٹے بابا جی بیچارے خدا معلوم اپنی تجارت دیکھ کس کرب میں مبتلا ہونگے؟. علماء کرام جنکو دین کے پلر کہا جائے تو غلط نہ ہو گا مختلف کمیٹیوں مدرسوں اور اپنی رائے کا سودا کرتے نظر آتے ہیں. کبھی سوچا ہے مدرسوں کے نام پہ ان ممالک سے بھی عطیات لیے جاتے جنکو اسلام کے الف کا بھی نہیں پتہ ہوتا. اور پھر وہاں سے جو اللہ کو مانتے ہیں. بڑی خندہ پیشانی سے اللہ کا نام اسلام کی تعلیمات کو خوبصورت رومالوں میں لپیٹ کر ایسے انکا سودا کیا جاتا کے عقل حیران ہو جاتی ہے. خوفِ خدا کا ڈنکا بجا کر لوگوں کو ڈرا کر اور پیسوں کے عوض اس خوف سے نجات دلانے کا کاروبار اتنے احسن طریقے سے کیا جاتا کہ بکن...

کبھی وقت کی تلوار پر

کبھی کبھی یونہی دل چاہتا ہے کہ میں لفظ لفظ بیاں کروں  تجھے رفتہ رفتہ عیاں کروں  تیرے درد سارے سمیٹ کے تجھے محبتوں کی زباں کروں مصباح

محمد

جب میں محمد کا نام لکھتی ہوں رحمتوں کا اک پیام لکھتی ہوں فرشتے اترتے ہیں زیارت کو میری جب میں درود و سلام لکھتی ہوں ✍🏻مصباح چوہدری

دل چاہتا ہے

کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دل چاہتا ہے لفظوں کے گلے کاٹ دیئے جائیں یا پھر انکی آواز چھین لی جائے اور خاموش لفظوں میں ایک طویل کہانی لکھی جائے جسے اندھے دیر تک پڑھتے رہیں. بہرے مدتوں سنتے رہیں اور گنگے صدیوں اس پہ بحث کرتے رہیں. ✍🏻مصباح چوہدری