تیری رضا چاہیے

اے اللہ میں تھک گئی ہوں اب مجھ سے نہیں ہوتا. کیا ایسا ممکن نہیں کہ میرے سجدے ہر ڈر ہر ضرورت سے ماوری ہوں؟ میری غیرت یہ گوارہ نہیں کرتی کہ پیشانی میں اسم عظیم کندہ کیےکسی ضرورت کے تحت خود کو سجدہ ریز کر لوں. توں اپنی جنت اپنے پاس رکھ لے اپنا جہنم بھی سمیٹے رکھ. کہ جنت کی رونقیں اب میری توجہ اپنی طرف مبذول نہیں کر پاتیں. اب جہنم کی آگ کا خوف مجھے عبادت کی طرف گامزن نہیں کرتا. کہ اب مجھ سے تجارت نہیں ہوتی مجھے سود میں ملے تیرے باغات جنت نہیں چاہیں. کیا یہ ممکن نہیں کہ میں اپنی پیشانی بس اس لیے تیری بارگاہ میں رکھوں کہ توں میرا مالک ہے. میرے سجدے بس تجھے شایاں ہیں میرا سر اور اس میں رکھی تیری صفات بس اس لیے تیرے سامنے ہیں کہ دیکھ میرے پاس تیری ننانوے صفات کی امانت ہے اور میں نے شرک نہیں کیا اس امانت میں خیانت نہیں کی. میں نے کسی ضرورت, کسی ڈر, کسی لالچ یا کسی حرص کے پیش نظر کبھی پیشانی نہیں جھکائی.
میرا رشتہ تجھ سے تیرے خلیفہ کا ہے. میرے مالک میں جانتی ہوں کہ توں مان رکھنے والا ہے میری باتوں کا مان رکھ لے.میری چاہتیں اپنے نام کر لے. میری اذیتوں کا اختتام کر. کہ مجھ سے اب بت تخلیق نہیں ہوتے بھلے حاجتوں کے ہوں یا خواہشوں کے. اب توحید کا رستہ دے میرا ہاتھ تھام لے کہ تجھ سے تیرے لیے ہمکلام ہونا ہے. تجھ سے تیری باتیں کرنی ہیں. تجھ سے تجھکو مانگنا ہے. میری دعا کی لاج رکھ لے کہ میرا ہو جا اور مجھے اپنا کر لے. فقط اپنا.
✍🏻مصباح چوہدری

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان...پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ

I am a d-girl

ٹھکرائے جانے کا عذاب