Posts

سیاست دانوں کے ڈیرے

سیاست دانوں کے ڈیرے بھی رنڈی کے کوٹھوں کی طرح بڑے بدنام ہوتے ہیں. جسے دیکھو گالیاں دیتا یے. مگر جب ضرورت پڑتی ہے تو انکی طرف بھاگتا ہر کوئی ہے🤭 مصباح چوہدری

مکافات عمل

ہم لوگ بڑے سمجھدار ہوتے ہیں کسی کے بخار کو مکافات عمل کا نام دے کر اپنی زندگی میں آئے بھونچال کو رب کی آزمائش کہنا خوب جانتے ہیں. مصباح چوہدری

سیاہ بخت

آج کہیں پڑھا کہ سیاہ بخت وہ ہوتا ہے جس کی زبان محبت کے دعووں سے تر ہو. مگر ہاتھ محبت کی لکیروں سے محروم. کتنی سچی بات ہے اور کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی رشتے میں ہم سب سیاہ بخت ہیں. محبت سے خالی ہاتھ بھی چھلنی جیسے ہوتے ہیں جن سے اعتبار, اعتماد, احساس, عزت, تکریم اور احترام سب چھن جاتا. پیچھے رہ جاتا تو دکھوں کا چھان. جسکو جتنی مرضی کوشش کر لیں نہیں چھنتا ہمیں ہمیشہ اس کے ساتھ گزارہ کرنا پڑتا ہے. پھر بھلے صحراوں کی تپتی ریت کو مزید جھلساتی دھوپ ہو کہ ہڈیوں کو جماتی ٹھنڈ ہمارا اوڑھنا بچھونا بس دکھ ہی ہوتے جو کبھی دھوپ کی شدت کو بڑھا کر ہمارا صبر آزماتے ہیں کبھی یخ بستہ لہجوں سے ہمارا ظرف آزماتے ہیں. جو بھی ہو سیاہ بخت اپنے مقدر کی سیاہی اوڑھے زندگی کا سفر کاٹتا ہے. مصباح چوہدری

ڈپریشن

دنیا کے مشکل ترین حالات میں سب سے مشکل خود کو بے یارومددگار پانا ہے. جیسے ہوا میں معلق کوئی پانی کا قطرہ جسکو نہیں خبر کے وہ بھاپ بن رہا کہ برف یا کوئی اگلا ہوا جھونکا اسکی شناخت ختم کرتا ہوا اپنے ساتھ اڑا لے جائے گا یا پھر کشش ثقل کے باعث منہ کے بل زمین پہ آ گرے گا اور اپنا آپ کھو دے گا. اور اس بھی مشکل کام اپنی کیفیت کا اظہار ہے کیونکہ اسکے بعد اللہ سب ٹھیک کر دےگا. مایوسی گناہ ہے. یار اچھے خاصے تو ہو حوصلہ رکھو وغیرہ وغیرہ جیسے پیغامات کی لمبی لسٹ. تسلی دینے والے کی نیت پہ شک نہیں کیا جا سکتا مگر ضروری نہیں کہ بندہ اتنا سب سننے کی ہمت رکھتا ہو. یوں بھی ہوتا ہے کہ دلاسے درد بڑھانے لگتے ہمدردیاں گالیاں لگنے لگتی. اور حالات مزید خراب ہو جاتے. کیا ہی اچھا ہو کہ جھوٹی تسلیوں کی جگہ رونے کو کندھا دیا جائے. لمبی چھوڑنے کی جگہ بولنے کا موقع دیا جائے. سب ٹھیک ہو جائے گا کی گردان الاپنے کی بجائے مسئلے کے پہلووں کا جائزہ لیا جائے اور حل تلاش کیا جائے. تاکہ سچ میں کچھ ٹھیک ہو سکے.... شاید کچھ ٹھیک ہو ای جائے مصباح چوہدری

عورت

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ. کتنی خوبصورت بات ہے. اسی رنگ کا کرشمہ ہے کہ ہر دور میں عورت توجہ کا مرکز رہی ہے تخلیق انسان سے لیکر آج تک اس پہ بہت لکھا گیا اسکے کردار اخلاق اور حسن کی بہت سی گرہیں کھولی گئیں. مفتی صاحب فرماتے ہیں عورت کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کئی مرد کچھ کھائے پیے اور بور ہوئے بغیر پہروں عورت پہ بات کر سکتے ہیں. اسی اہمیت کا مرہون منت ہے کہ ہر ایک نے اپنی استطاعت کے مطابق عورت نامے کو اپنی زندگی میں ایک خاص مقام دیا. اسکے کردار اخلاق جذبات ہر حوالے سے تاویلیں گھڑی گئیں جو کہ بہت مشہور بھی ہوئیں جیسے بانو قدسیہ فرماتی ہیں کہ ایک بھوک سے ہمیشہ دوسری بھوک کا سراغ ملتا ہے یہی وجہ ہے عورت ہر معاشرے میں اپنی اشتہا کی نمائش کرتی ہے. پچھلی صدی میں عورت کی بھوک کی نمائش جنسی آمادگی کے مترادف تھی تبھی تو ہر دور میں مرد کچی بھوک والی کے پیٹ کا سودا اپنے جسم سے کرتا آیا ہے. راتوں کو چوری بیویوں کے لیے قلاقند اور دیگر لغویات اس کی تصدیق ہیں. دوسری طرف کچھ مفکرین کا خیال ہے کہ عورت کے بننے سنورنے کے شوق کے ساتھ بھی کچھ ایسی ہی باتیں نتھی ہیں جیسا کہ ہون...

رب کی رضا

پتہ اللہ پاک جسے چن لیتا ہے تو اسکو کندن کرنے کے لیے حالات کی بھٹی سے گزارتا ہے. اسے صبر کے روزے رکھوا کر شکر کی ترغیب دیتا ہے اور پھر عطا کی افطار سے اس میں زندگی بھر دیتا ہے. لیکن اس سارے عمل میں انسان کئی بار ٹوٹتا ہے کئی بار مایوس ہوتا در بدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے اسے لگتا ہے کہ اسکا مالک اس سے ناراض ہے تبھی تو حالات کی تپتی دھوپ میں سستانے کو خیال یار تک میسر نہیں. مگر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے پوری کائنات تو اسے محبوب تک پہنچانے کی جدوجہد میں لگی رہتی ہے. بظاہر ہر طرف سیاہی چھائی رہتی ہے ایسی سیاہی کہ جس میں سیاہ رنگ بھی پھیکا لگے. ایسی کٹھنائی کے ہر قدم اذیتوں بھرا ہو. انسان سمجھ ہی نہیں پاتا اس جفا میں چھپی وفا کو. اس سختی میں لپٹی آسانی کو. اس تاخیر میں بندھی جلدی کو. اس پل صراط کے نیچے بہتی کوثر کو. مگر جب پا لیتا ہے تو شکر کے سجدے طویل ہو جاتے ہیں. صبر کا مفہوم بدلنے لگتا ہے. پھر سیاہی میں چھپے ساتوں رنگ اس پہ عیاں ہونے لگتے ہیں. ادراک کے رستے وجدان کی منزلوں تک لے آتے ہیں. اور پھر خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا. سب روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے. ✍🏻مصباح چوہدری ...

تحریر

"الفاظ تو آپ کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑے رہتے ہیں" یہ جملہ اکثر سماعت سے ٹکراتا ہے. تو جناب یہ اتنا آسان نہیں ہوتا. خیالوں کی راہ گزر پر بے لگام بھاگتی سوچوں کو الفاظ کی نکیل ڈال کر کاغذ کے پنوں میں باندھ دینا ایک انتہائی دشوار گزار عمل ہے. اور ہر بار یہ نکیل ٹھیک سے ڈلے اسکی کوئی گارنٹی نہیں سوار جتنا بھی ماہر ہو زرا سی چوک اسے میلوں رگیدتی رہتی ہے. کون جانے کتنی بار جسم چھلتا ہے. خون کے پھوہارے پھوٹتے ہیں راستوں پہ پڑی کنکریاں گھاؤ میں پیوست ہو کر درد کی شدت بڑھاتی ہیں. کتنی بار اشک پلکوں کی سیما کو توڑتے ہیں. کتنی بار امید کا دامن ہاتھ سے پھسلتا ہے. کتنی بار لفظوں کی رسی الٹا اپنے گلے پڑتی ہے. کتنی بار دم گھٹتا ہے. اور کتنی بار لکھاری مرتا ہے. پڑھنے والے جن آہوں پہ واہ وائی کرتے ہیں لکھنے والا ان سارے حالات سے گزرتا ہے. الفاظ یونہی پر اثر نہیں ہوتے. امید اور ناامیدی یقین اور بے یقینی کے پل صراط پر سے گزرنا پڑتا ہے تب جا کر تحریر میں جان پڑتی ہے اور وہ زینت ورق بنتی ہے. مصباح چوہدری