رب کی رضا

پتہ اللہ پاک جسے چن لیتا ہے تو اسکو کندن کرنے کے لیے حالات کی بھٹی سے گزارتا ہے. اسے صبر کے روزے رکھوا کر شکر کی ترغیب دیتا ہے اور پھر عطا کی افطار سے اس میں زندگی بھر دیتا ہے. لیکن اس سارے عمل میں انسان کئی بار ٹوٹتا ہے کئی بار مایوس ہوتا در بدر کی ٹھوکریں کھاتا ہے اسے لگتا ہے کہ اسکا مالک اس سے ناراض ہے تبھی تو حالات کی تپتی دھوپ میں سستانے کو خیال یار تک میسر نہیں. مگر حقیقت کچھ اور ہوتی ہے پوری کائنات تو اسے محبوب تک پہنچانے کی جدوجہد میں لگی رہتی ہے. بظاہر ہر طرف سیاہی چھائی رہتی ہے ایسی سیاہی کہ جس میں سیاہ رنگ بھی پھیکا لگے. ایسی کٹھنائی کے ہر قدم اذیتوں بھرا ہو. انسان سمجھ ہی نہیں پاتا اس جفا میں چھپی وفا کو. اس سختی میں لپٹی آسانی کو. اس تاخیر میں بندھی جلدی کو. اس پل صراط کے نیچے بہتی کوثر کو. مگر جب پا لیتا ہے تو شکر کے سجدے طویل ہو جاتے ہیں. صبر کا مفہوم بدلنے لگتا ہے. پھر سیاہی میں چھپے ساتوں رنگ اس پہ عیاں ہونے لگتے ہیں. ادراک کے رستے وجدان کی منزلوں تک لے آتے ہیں. اور پھر خالق اور مخلوق کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا. سب روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتا ہے.
✍🏻مصباح چوہدری

Comments

Popular posts from this blog

پاکستان...پاک لوگوں کے رہنے کی جگہ

I am a d-girl

ٹھکرائے جانے کا عذاب